6 دسمبر 2011 - 20:30

افغانستان کے دارالحکومت کابل ميں عاشورائے محرم کے جلوس عزاداري پر ہونےوالے دہشتگردانہ حملے کي عالمي سطح پر مذمت کي جارہي ہے.

ابنا: اقوام متحدہ کے سکريٹري جنرل بان کي مون نے کابل ميں عزاداروں پر کئے گئے دہشتگردانہ حملے کي مذمت کرتے ہوئے اس حملے ميں شہيد ہونےوالوں کے اہل خانہ سے ہمدردي کا اظہارکيا ہے اسلامي جمہوريہ ايران کے وزير خارجہ علي اکبر صالحي نے بھي عاشورکے دن افغان دارالحکومت کابل ميں جلوس عزائے سيد الشہدا پر ہونےوالے دہشتگردانہ حملے کي مذمت کرتے ہوئے اسے مختلف فرقوں کے درميان اختلاف پيدا کرنے کي گھناؤني سازش قرارديا افغانستان کے صدر حامد کرزئي نے بھي جو غيرملکي دورے پر ہيں اس دہشتگردانہ حملے کي مذمت کرتے ہوئے شہدا کے اہل خانہ کو تعزيت پيش کي ہے اس کے علاوہ بھي دنيا کے متعدد ملکوں نے اس دہشتگردانہ حملے کي مذمت کي ہے کابل ميں مسلمان عوام عاشور کي مناسبت سے شہدائے کربلا کي عزاداري و نوحہ و ماتم ميں مصروف تھے کہ انتہا پسند دہشتگردوں نے عزاداروں کے درميان ايک طاقتور بم کا دھماکہ کرديا - اس دھماکے ميں ساٹھ عزادار شہيد اورسو سے زائد زخمي ہوگئے -

يہ دھماکہ کابل ميں حضرت عباس عليہ السلام سے منسوب ايک زيارتگاہ کے قريب مسجد ميں کيا گيا- اسي طرح شہر مزار شريف ميں بھي روضہ سخي کے قريب عزاداروں کے درميان ايک دھماکہ ہوا جس ميں کم سے کم چودہ افراد افراد شہيد اور تقريبا بيس زخمي ہوگئے -

قندھار ميں بھي عزاداروں پر دہشتگردوں نے حملہ کيا ہے- افغان وزارت داخلہ کے مطابق افغانستان ميں عاشور کے دن ہونے دہشتگردانہ حملوں ميں شہيد اور زخمي ہونے والوں ميں بڑي تعداد خواتين اور بچوں کي ہے- کابل ميں انسداد جرائم کے ادارے کے سربراہ محمد ظاہر نے بتايا کہ ايک خود کش دہشتگردنے جس نے اپنے جسم پر دھماکہ خيز مواد باند رکھا تھا عزاداروں کے ماتمي دستوں ميں داخل ہو کراس وقت اپنے آپ کو دھماکہ خيز مواد سے اڑا ديا جب وہ امام مظلوم کربلا کے غم ميں سينہ زني اور نوحہ خواني ميں مصروف تھے -ايسا پہلي بار ہے کہ جب کابل ميں عزاداران حسيني پر دہشتگردانہ حملہ ہوا ہے افغان وزارت داخلہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ زخميوں ميں بعض کي حالت نازک ہے اس لئے شہيد ہونے والوں کي تعداد ميں اضافہ بھي ہوسکتا ہے - افغانستان ميں عاشور کے دن ہونےوالے يہ دہشتگردانہ حملے ايک ايسے وقت ہوئے ہيں جب اس ملک کے مسلمان عوام کي جان کي سلامتي کي ذمہ داري قابض غير ملکي فوجوں پر ہے ليکن دوہزار ايک ميں جب سے امريکا نے افغانستان پر حملہ کيا ہے امريکا اور نيٹونے ثابت کرديا ہے کہ وہ اس جنگ زدہ ملک ميں امن و امان برقرار کرنے کي توانائي نہيں رکھتے -مبصرين کا کہنا ہے کہ افغانستان کي جنگ ميں امريکا کي جنگي حکمت عملي ناکام ہوچکي ہے اور اس ملک ميں امن و امان کي برقراري کا واحد راستہ غيرملکي فوجوں کا انخلاہے افغانستان ميں عاشورا کے دن ہونے والے دہشتگردانہ حملوں کے بعد اس ملک کے صدر حامد کرزئي اپنا دورہ برطانيہ منسوخ کرکے وطن واپس لوٹ گئے ہيں-موصولہ اطلاعات کے مطابق افغانستان کے ايوان صدر نے ايک بيان جاري کرکے کہا ہے کہ صدر کرزئي نے کابل اور مزار شريف ميں ہونے والے دہشتگردانہ حملوں کے بعد اپنا دورہ لندن منسوخ کر ديا ہے اور وہ افغانستان لوٹ آئے ہيں- دوسري طرف پاکستان کي دہشتگرد تنظيم لشکر جھنگوي نے ان حملوں کي ذمہ داري قبول کي ہے - ابو بکر منصور نامي ايک شخص نے نے اپنے آپ کو دہشتگرد تنظيم لشکر جھنگوي کا ترجمان بتاتے ہوئے کہا ہے کہ عاشورا کے دن امام حسين کے عزاداروں پر کابل اور مزار شريف ميں ہونے والے دہشتگردانہ حملے اس گروہ کے افراد نے انجام ديئے ہيں -........

/169